سنن سعید بن منصور
كتاب التفسير— تفسیر کی کتاب
قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَلا تَجْعَلُوا اللهَ عُرْضَةً لأَيْمَانِكُمْ أَنْ تَبَرُّوا وَتَتَّقُوا وَتُصْلِحُوا بَيْنَ النَّاسِ وَاللهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ} باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَلا تَجْعَلُوا اللهَ عُرْضَةً لأَيْمَانِكُمْ أَنْ تَبَرُّوا وَتَتَّقُوا وَتُصْلِحُوا بَيْنَ النَّاسِ وَاللهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ» کا بیان
حدیث نمبر: 371
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ - فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { وَلا تَجْعَلُوا اللهَ عُرْضَةً لأَيْمَانِكُمْ } - قَالَ: هُوَ الرَّجُلُ يَحْلِفُ أَنْ لَا يَصِلَ رَحِمَهُ، وَلَا يَبَرَّ قَرَابَتَهُ، وَلَا يُصْلِحَ بَيْنَ اثْنَيْنِ، فَلَا تَمْنَعُهُ يَمِينُهُ مِنْ أَنْ يَفْعَلَ ذَلِكَ، وَيُكَفِّرَ عَنْ يَمِينِهِ .مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ اس آیت ﴿وَلَا تَجْعَلُوا اللَّهَ عُرْضَةً لِأَيْمَانِكُمْ﴾ کے بارے میں فرماتے ہیں: اس سے مراد وہ شخص ہے جو قسم کھا لیتا ہے کہ وہ صلہ رحمی نہیں کرے گا، اپنے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک نہیں کرے گا، یا دو آدمیوں کے درمیان صلح نہیں کرائے گا۔ پس اس کی قسم اسے ان نیک کاموں سے نہ روکے، بلکہ اسے چاہیے کہ وہ ان کاموں کو کرے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے۔