سنن سعید بن منصور
كتاب التفسير— تفسیر کی کتاب
قَوْلُهُ تَعَالَى: {نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ} باب: اللہ تعالیٰ کے قول «نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ» کا بیان
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الشَّقَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْقَعْقَاعِ، قَالَ: شَهِدْتُ الْقَادِسِيَّةَ وَأَنَا غُلَامٌ - أَوْ يَافِعٌ -، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللهِ فَقَالَ: آتِي امْرَأَتِي كَيْفَ شِئْتُ ؟ قَالَ: نَعَمْ . قَالَ: وَحَيْثُ شِئْتُ ؟ قَالَ: نَعَمْ . قَالَ: وَأَنَّى شِئْتُ ؟ قَالَ: نَعَمْ . قَالَ: فَفَطِنَ لَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّهُ يُرِيدُ أَنْ يَأْتِيَهَا فِي مَقْعَدَتِهَا، فَقَالَ: لَا، مَحَاشُّ النِّسَاءِ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ایک شخص آیا اور پوچھنے لگا: ”کیا میں اپنی بیوی کے پاس جیسے چاہوں آ سکتا ہوں؟“ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”ہاں۔“ اس نے پوچھا: ”اور جہاں چاہوں؟“ فرمایا: ”ہاں۔“ اس نے پوچھا: ”اور جس طریقے سے چاہوں؟“ فرمایا: ”ہاں۔“ اتنے میں ایک شخص سمجھ گیا کہ وہ اپنی بیوی کے پاس دبر سے جانا چاہتا ہے، تو اس نے کہا: ”یہ اپنی بیوی کے پاس پچھلے راستے سے جانا چاہتا ہے۔“ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”نہیں، عورتوں کے پچھلے راستے تم پر حرام ہیں۔“