حدیث نمبر: 3683
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْجُعْفِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَبْدِ السَّلُولِيِّ، قَالَ: كُنَّا مَعَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ بِطَبَرِسْتَانَ، فَقَالَ لَنَا يَوْمًا: أَيُّكُمْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ؟ فَقَالَ حُذَيْفَةُ: أَنَا، قَالَ: كَيْفَ رَأَيْتَهُ يَصْنَعُ؟ قَالَ: فَرَقَنَا فِرْقَتَيْنِ، فَتَقَدَّمَ وَأَقَامَ طَائِفَةً مِنْهُمْ مَعَهُ، وَأَقَامَ الطَّائِفَةَ الْأُخْرَى مِنْ وَرَائِهِمْ يَرُدُّونَ الْقَوْمَ، فَصَلَّى بِالَّذِينَ مَعَهُ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَقَامِ أَصْحَابِهِمْ، وَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ، وَقَدْ كَانَ قَالَ لَهُمْ: «إِنْ هَاجَكُمُ الْقَوْمُ هَيْجًا فَقَدْ حَلَّ لَكُمُ الْقِتَالُ وَالْكَلَامُ»مظاہر امیر خان
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم طبریستان میں سیدنا سعید بن العاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے۔ انہوں نے پوچھا: تم میں سے کس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز خوف پڑھی؟ میں نے کہا: میں نے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو گروہوں میں تقسیم کیا۔ ایک جماعت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتی رہی۔ دوسری دشمن کو روکتی رہی۔ پھر دونوں نے باری باری ایک ایک رکعت پڑھی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر دشمن حملہ کرے تو لڑنے اور بولنے کی اجازت ہے۔“