سنن سعید بن منصور
كتاب التفسير— تفسیر کی کتاب
قَوْلُهُ تَعَالَى: {نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ} باب: اللہ تعالیٰ کے قول «نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ» کا بیان
حدیث نمبر: 366
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَتِ الْيَهُودُ: إِنَّمَا يَكُونُ الْوَلَدُ أَحْوَلَ إِذَا أَتَى الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ مِنْ خَلْفِهَا، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: { نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ } مِنْ بَيْنِ يَدَيْهَا، وَمِنْ خَلْفِهَا، وَلَا يَأْتِيهَا إِلَّا فِي الْمَأْتَى .مظاہر امیر خان
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہودیوں نے کہا: بچہ بھینگا تب پیدا ہوتا ہے جب مرد اپنی بیوی کے پاس پیچھے سے آتا ہے۔ پس اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُمْ﴾ یعنی عورت کے پاس آگے سے آؤ یا پیچھے سے، لیکن جماع صرف شرعی راستے میں ہونا چاہیے۔