حدیث نمبر: 3659
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: أَقْرَأَنِي ابْنُ بُقَيْلَةَ صَاحِبُ الْحِيرَةِ كِتَابًا مِثْلَ هَذَا - يَعْنِي طُولَ الْكَفِّ -: «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ إِلَى مَرَازِبَةِ فَارِسَ سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى، أَمَا بَعْدُ، فَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي سَلَبَ مُلْكَكُمْ، وَوَهَّنَ كَيْدَكُمْ، وَفَرَّقَ جَمْعَكُمْ، وَفَضَّ خِدْمَتَكُمْ، فَاعْتَقِدُوا مِنِّيَ الذِّمَّةَ، وَأَدُّوا إِلَيَّ الْجِزْيَةَ، وَذَكَرَ الرَّهْنَ بِشَيْءٍ، وَإِلَّا وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَآتِيَنَّكُمْ بِقَوْمٍ يُحِبُّونَ الْمَوْتَ كَمَا تُحِبُّونَ الْحَيَاةَ»
مظاہر امیر خان

سیدنا شعبی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے ابن بقیلہ نے، جو حیرہ کے رہنے والے تھے، ایک خط پڑھ کر سنایا، خط کی جسامت ہتھیلی کے برابر تھی، اس میں لکھا تھا: ”بسم اللہ الرحمن الرحیم، خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی طرف سے اہل فارس کے رئیسوں کے نام۔ سلام ہو اس پر جو ہدایت کی پیروی کرے۔ اما بعد! تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے تمہاری بادشاہت چھین لی، تمہاری تدبیریں کمزور کر دیں، تمہاری جماعت کو پراگندہ کر دیا، اور تمہاری خدمت کو توڑ دیا۔ پس مجھ سے ذمہ لے لو اور جزیہ ادا کرو، اور فلاں فلاں چیز بطور رہن پیش کرو۔ ورنہ اللہ کی قسم! جس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں ایسے لوگوں کے ساتھ تم پر چڑھائی کروں گا جو موت کو اسی طرح پسند کرتے ہیں جیسے تم زندگی کو پسند کرتے ہو۔“

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3659
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، وأخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 5337، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2482، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 7190، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 4367، 1845، 4366، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 34232، 34417، 34418، 34422، وأخرجه الطبراني فى«الكبير» برقم: 3806»
مجالد بن سعید ضعیف