حدیث نمبر: 3654
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو الْحَتْرُوشِ شَمْلَةُ بْنُ هَزَّالٍ قَالَ: نا قَتَادَةُ، أَسْنَدَ الْحَدِيثَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ كَانَ لَهُ بَرِيدٌ يَخْتَلِفُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ مَلَكِ الرُّومِ، وَأَنَّ امْرَأَةَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اسْتَقْرَضَتْ دِينَارًا، فَاشْتَرَتْ بِهِ عِطْرًا، فَجَعَلَتْ فِي قَوَارِيرَ، فَبَعَثَتْ بِهِ مَعَ الْبَرِيدِ إِلَى امْرَأَةِ مَلِكِ الرُّومِ، فَمَا أَتَاهَا بِهِ فَرَّغَتْهُنَّ، وَمَلَأَتْهُنَّ جَوْهَرًا، وَقَالَتْ: اذْهَبْ بِهِ إِلَى امْرَأَةِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ، فَلَمَّا أَتَاهَا بِهِ فَرَّغَتْهُنَّ عَلَى بِسَاطٍ لَهَا، فَدَخَلَ عُمَرُ عَلَى تَفِيئَةِ ذَلِكَ، فَقَالَ: «مَا هَذَا يَا هَذِهِ؟» قَالَتْ: إِنِّي اسْتَقْرَضْتُ مِنْ فُلَانٍ دِينَارًا، فَاشْتَرَيْتُ بِهِ عِطْرًا، فَجَعَلْتُهُ فِي قَوَارِيرَ، وَبَعَثْتُ بِهِ - تَعْنِي مَعَ بَرِيدِكَ - إِلَى امْرَأَةِ مَلِكِ الرُّومِ فَأَرْسَلَتْ بِهِ إِلَيَّ، فَقَالَ عُمَرُ عِنْدَ ذَلِكَ: «يَا فُلَانُ خُذْ هَذَا فَاذْهَبْ بِهِ، فَبِعْهُ، فَاقْضِ بِهِ فُلَانًا دِينَارًا، وَاجْعَلْ بَقِيَّتَهُ فِي بَيْتِ مَالِ الْمُسْلِمِينَ، لَيْسَ آلُ عُمَرَ أَحَقَّ بِهِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ»
مظاہر امیر خان

حضرت قتادہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سند کے ساتھ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تک حدیث پہنچائی کہ آپ کا ایک قاصد تھا جو آپ اور روم کے بادشاہ کے درمیان پیغام رسانی کرتا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی بیوی نے کسی سے ایک دینار قرض لیا اور اس سے خوشبو خرید کر شیشیوں میں بھر کر قاصد کے ہاتھ روم کے بادشاہ کی بیوی کو بھجوایا۔ جب قاصد وہاں پہنچا تو اس کی بیوی نے خوشبو نکال لی اور شیشیوں کو قیمتی جواہرات سے بھر کر واپس کر دیا، اور کہا: ”یہ امیر المؤمنین عمر کی بیوی کو دے دینا۔“ جب یہ شیشیاں واپس آئیں تو عمر رضی اللہ عنہ گھر میں داخل ہوئے اور وہ شیشیاں دیکھیں تو فرمایا: ”اے عورت! یہ کیا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”میں نے فلاں شخص سے دینار ادھار لیا، خوشبو خریدی، شیشیوں میں بھری اور قاصد کے ذریعے روم کے بادشاہ کی بیوی کو بھیجی، تو اس نے یہ جواہرات بھیج دیے ہیں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے فلاں! یہ لے جا، انہیں فروخت کر، قرض چکاؤ اور باقی مال بیت المال میں جمع کرا دو، عمر کے گھر والے مسلمانوں سے زیادہ اس کے حق دار نہیں۔“

وضاحت:
علت کی تحقیق: ابو الحترش شملة بن هزال مجہول ہے،قال يحيى بن معين: ليس بشيءلسان الميزان: (4 / 261)۔ قتادة مدلس ہیں، اور یہاں عن سے روایت کر رہے ہیں (تصریحِ سماع نہیں ہے)؛ اور مدلس راوی کی عنعنت قبول نہیں کی جاتی جب تک تصریح نہ کرے۔ اس لیے اس سند میں ضعف موجود ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3654
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، «انفرد به المصنف من هذا الطريق»»