سنن سعید بن منصور
كتاب الجهاد— جہاد کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيْهِ» - قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: مَا أَحْبَبْتُ الْإِمَارَةَ قَبْلَ يَوْمَئِذٍ - فَدَعَا عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ، وَقَالَ: «انْطَلِقْ وَلَا تَلْتَفِتْ»، فَمَشَى سَاعَةً، ثُمَّ وَقَفَ، وَلَمْ يَلْتَفِتْ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , عَلَى مَا أُقَاتِلُ النَّاسَ؟ قَالَ: «قَاتِلْهُمْ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ مَنَعُوا مِنْكَ دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ»سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کل میں پرچم اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے، اور اللہ اس کے ہاتھ پر فتح دے گا۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”اس دن مجھے کبھی امارت کی خواہش نہیں ہوئی تھی۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بلایا، پرچم ان کے ہاتھ میں دیا اور فرمایا: ”جاؤ اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھنا۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ چلے، پھر رکے اور بغیر مڑے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! کن چیزوں پر ان سے قتال کروں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قتال کرو یہاں تک کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، جب وہ یہ کہہ دیں گے تو ان کا خون اور مال محفوظ ہو جائے گا، مگر حق اسلام کے تحت، اور ان کا حساب اللہ پر ہے۔“