سنن سعید بن منصور
كتاب الجهاد— جہاد کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، أَنَّ سَهْلًا أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ خَيْبَرَ: «لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلًا يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيْهِ»، فَبَاتَ النَّاسُ يَدُوكُونَ أَيُّهُمْ يُعْطَاهَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ غَدَوْا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكُلُّهُمْ يَرْجُو أَنْ يُعْطَاهَا فَقَالَ: «أَيْنَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ؟»، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَأُتِيَ بِهِ، فَبَصَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَيْنَيْهِ، وَدَعَا لَهُ فَبَرِئَ، حَتَّى كَأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِهِ وَجَعٌ: وَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أُقَاتِلُهُمْ حَتَّى يَكُونُوا مِثْلَنَا , قَالَ: «انْفُذْ عَلَى رِسْلِكَ حَتَّى تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ مِنْ حَقِّ اللَّهِ فِيهِ، لَأَنْ يَهْدِيَ اللَّهُ بِكَ رَجُلًا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَكَ حُمْرُ النَّعَمِ»سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن فرمایا: ”کل میں پرچم اس شخص کو دوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ فتح دے گا۔“ صحابہ کرام رات بھر یہ سوچتے رہے کہ پرچم کس کو ملے گا، صبح سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے، ہر ایک امید کر رہا تھا کہ اسے پرچم ملے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”علی بن ابی طالب کہاں ہیں؟“ عرض کیا گیا: ”ان کی آنکھیں دکھ رہی ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلوایا، ان کی آنکھوں پر تھوکا اور دعا فرمائی، وہ بالکل تندرست ہو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پرچم دیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”کیا میں ان سے اس وقت تک قتال کرتا رہوں جب تک وہ ہماری طرح نہ ہو جائیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آرام سے جاؤ، جب ان کے میدان میں پہنچو تو پہلے اسلام کی دعوت دو اور اللہ کے حق کو واضح کرو، اللہ کے ذریعے ایک آدمی کو تمہارے ہاتھ پر ہدایت دینا تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔“