سنن سعید بن منصور
كتاب الجهاد— جہاد کی کتاب
بَابُ الْغَازِي يُطِيلُ الْغَيْبَةَ عَنْ أَهْلِهِ باب: مجاہد کا اپنے گھر والوں سے لمبی مدت تک غیر حاضر رہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3639
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أنا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرًا، حَدَّثَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ حَرَسَ لَيْلَةً وَمَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَرْقَمِ، فَرَأَى سَوَادًا، فَقَالَ: «يَا عَبْدَ اللَّهِ، انْظُرْ مَا هَذَا؟» فَذَهَبَ، فَإِذَا هُوَ بِامْرَأَةٍ، فَقَالَ: مَا شَأْنُكِ؟ فَقَالَتْ: مَا سَاءَكَ وَسَاءَ صَاحِبَكَ الَّذِي مَعَكَ؟ قَالَ: وَمَنْ هُوَ؟ قَالَتْ: عُمَرُ، أَفِي اللَّهِ أَنْ يُحْبَسَ زَوْجِي عَنِّي سَنَةً، وَأَنَا أَشْتَهِي مَا تَشْتَهِي النِّسَاءُ؟ فَرَجَعَ إِلَى عُمَرَ، فَأَخْبَرَهُ، فَسَأَلَهَا: «أَيْنَ بَعْثُهُ؟» فَأَخْبَرَتْهُ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ، فَأَقْدَمَهُمظاہر امیر خان
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایک رات گشت کر رہے تھے، سیدنا عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ تھے، ایک عورت کو دیکھا، اس نے شکایت کی کہ اس کا شوہر ایک سال سے غائب ہے اور اس کی خواہشات پوری نہیں ہو رہیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے شوہر کو بلوایا۔