حدیث نمبر: 3621
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ، أَنَّهُ مُرَّ بِهِ عَلَى رَجُلٍ بِالْمِضْمَارِ وَمَعَهُ فَرَسُهُ، فَمَسَكَ بِرَسَنِهِ عَلَى ظِلِّ كَثِيبٍ، فَأَرْسَلَ غُلَامَهُ لَيَنْظُرَ مَنْ هُوَ؟ فَإِذَا هُوَ بِأَبِي ذَرٍّ، فَأَقْبَلَ ابْنُ حُدَيْجٍ إِلَيْهِ فَقَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ، إِنِّي أَرَى هَذَا الْفَرَسَ قَدْ عَنَّاكَ، وَمَا أَرَى عِنْدَهُ شَيْئًا، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: هَذَا فَرَسٌ قَدِ اسْتُجِيبَ لَهُ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ حُدَيْجٍ: وَمَا دُعَاءُ بَهِيمَةٍ مِنَ الْبَهَائِمِ؟ فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: " إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ فَرَسٍ إِلَّا أَنَّهُ يَدْعُو اللَّهَ كُلَّ سَحَرٍ يَقُولُ: اللَّهُمَّ، خَوَّلْتَنِي عَبْدًا مِنْ عَبِيدِكَ، وَجَعَلْتَ رِزْقِي فِي يَدَيْهِ، اللَّهُمَّ فَاجْعَلْنِي أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَلَدِهِ وَأَهْلِهِ وَمَالِهِ "
مظاہر امیر خان

معاویہ بن حدیج رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ”میں مضمضمار کے مقام پر ایک شخص کے پاس سے گزرا جس کے ساتھ اس کا گھوڑا تھا، وہ گھوڑے کو ایک ٹیلے کے سائے میں تھامے کھڑا تھا۔ میں نے اپنے غلام کو بھیجا کہ جا کر معلوم کر کہ یہ کون ہے؟ تو پتا چلا کہ یہ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ ہیں۔ میں ان کے پاس آیا اور کہا: اے ابو ذر! میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ گھوڑا تمہیں تھکا رہا ہے اور تمہارے پاس کچھ نہیں۔ ابو ذر نے کہا کہا کہا کہ یہ گھوڑا ایک دعا والا گھوڑا ہے۔ ابن حدیج نے کہا: ’جانوروں کی بھی کوئی دعا ہوتی ہے؟‘ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ہر گھوڑا سحر کے وقت اللہ سے دعا کرتا ہے کہ: اے اللہ! تو نے مجھے ایک اپنے بندے کے سپرد کیا ہے اور میرا رزق اس کے ہاتھ میں رکھا ہے۔ اے اللہ! مجھے اس کی نظروں میں اس کے بیٹے، گھر والوں اور مال سے بھی زیادہ محبوب بنا دے۔“

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3621
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2443، 2444، وأحمد فى «مسنده» برقم: 21842»