سنن سعید بن منصور
كتاب التفسير— تفسیر کی کتاب
قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللهَ عَلَى مَا فِي قَلْبِهِ وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصَامِ} باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللهَ عَلَى مَا فِي قَلْبِهِ وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصَامِ» کا بیان
حدیث نمبر: 362
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ قَالَ: يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَتَفَقَّهُونَ لِغَيْرِ عِبَادَتِي، يَلْبَسُونَ مُسُوكَ الضَّأْنِ، قُلُوبُهُمْ أَمَرُّ مِنَ الصَّبِرِ ؟ أَبِي يَغْتَرُّونَ ؟ أَوْ إِيَّايَ يُخَادِعُونَ ؟ بِي حَلَفْتُ لَأُتِيحَنَّ لَهُمْ فِتْنَةً تَدَعُ الْحَلِيمَ فِيهَا حَيْرَانَ .مظاہر امیر خان
ابو عبیدہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ اللہ عزوجل فرماتا ہے: ”یہ کیا حال ہے کہ کچھ لوگ دین کا علم حاصل کرتے ہیں، لیکن میری عبادت کے لیے نہیں؟ وہ بھیڑ کی کھال پہنے ہوئے ہیں، مگر ان کے دل صبر سے بھی زیادہ سخت ہیں! کیا وہ مجھ سے دھوکہ کھاتے ہیں؟ یا مجھے فریب دینا چاہتے ہیں؟ میری قسم! میں ان پر ایسی آزمائش مسلط کروں گا جو عقلمند کو بھی حیران و پریشان کر دے گی۔“