سنن سعید بن منصور
كتاب التفسير— تفسیر کی کتاب
قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللهَ عَلَى مَا فِي قَلْبِهِ وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصَامِ} باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللهَ عَلَى مَا فِي قَلْبِهِ وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصَامِ» کا بیان
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: جَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّا نَجِدُ فِي بَعْضِ الْكُتُبِ: أَنَّ لِلهِ عَزَّ وَجَلَّ عِبَادًا أَلْسِنَتُهُمْ أَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، وَقُلُوبُهُمْ أَمَرُّ مِنَ الصَّبْرِ، يَلْبَسُونَ لِلنَّاسِ مُسُوكَ الضَّأْنِ مِنَ اللِّينِ، وَيَخْتِلُونَ الدُّنْيَا بِالدِّينِ، قَالَ اللهُ: عَلَيَّ يَجْتَرِئُونَ ؟ وَبِي يَغْتَرُّونَ ؟ بِعِزَّتِي، لَأُتِيحَنَّ لَهُمْ فِتْنَةً تَدَعُ الْحَلِيمَ حَيْرَانَ . فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ: هَذَا فِي كِتَابِ اللهِ { وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللهَ عَلَى مَا فِي قَلْبِهِ وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصَامِ } فَقَالَ الرَّجُلُ: قَدْ عَلِمْنَا فِيمَنْ أُنْزِلَتْ . فَقَالَ لَهُ مُحَمَّدٌ: إِنَّ الْأَمْرَ يَنْزِلُ فِي الرَّجُلِ، ثُمَّ يَكُونُ عَامًّا .محمد بن کعب رحمہ اللہ کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا: ”ہم کچھ کتابوں میں یہ الفاظ پاتے ہیں کہ اللہ عزوجل کے کچھ بندے ایسے ہیں جن کی زبانیں شہد سے زیادہ میٹھی ہوتی ہیں، لیکن ان کے دل صبر سے بھی زیادہ سخت ہوتے ہیں۔ وہ لوگوں کے سامنے نرمی کا اظہار کرتے ہیں جیسے وہ بھیڑ کی کھال پہنے ہوئے ہوں، مگر دین کے ذریعے دنیا حاصل کرنے کی چالاکی کرتے ہیں۔“ اللہ عزوجل فرماتا ہے: ”کیا وہ مجھ پر جرأت کرتے ہیں؟ اور مجھ سے دھوکہ کھاتے ہیں؟ میری عزت کی قسم! میں ان پر ایسی آزمائش مسلط کروں گا جو عقلمند کو بھی حیران و پریشان کر دے گی۔“ محمد بن کعب رحمہ اللہ نے فرمایا: ”یہ بات اللہ کی کتاب میں موجود ہے“ اور پھر یہ آیت تلاوت کی: ﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللَّهَ عَلَى مَا فِي قَلْبِهِ وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصَامِ﴾ (اور لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں جن کی باتیں دنیاوی زندگی میں تمہیں بھلی معلوم ہوتی ہیں، اور وہ اپنے دل کی بات پر اللہ کو گواہ بناتے ہیں، حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہیں)۔ وہ شخص بولا: ”ہم جانتے ہیں کہ یہ آیت کس کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔“ محمد بن کعب رحمہ اللہ نے فرمایا: ”حکم پہلے ایک شخص کے بارے میں نازل ہوتا ہے، لیکن پھر وہ سب کے لیے عام ہو جاتا ہے۔“