سنن سعید بن منصور
كتاب الجهاد— جہاد کی کتاب
بَابُ الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ باب: گھوڑوں کی پیشانی میں قیامت تک خیر و برکت بندھی ہوئی ہے۔
حدیث نمبر: 3609
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَعْقُوبَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الْغِفَارِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ الْغِفَارِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " يَا أَبَا ذَرٍّ، اعْقِلْ مَا أَقُولُ لَكَ: لَعَنَاقٌ تَأْتِي رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أُحُدٍ ذَهَبًا يَتْرُكُهُ وَرَاءَهُ، يَا أَبَا ذَرٍّ، اعْقِلْ مَا أَقُولُ لَكَ: إِنَّ الْمُكْثِرِينَ هُمُ الْأَقَلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا مَنْ قَالَ كَذَا وَكَذَا، اعْقِلْ يَا أَبَا ذَرِّ مَا أَقُولُ لَكَ: إِنَّ الْخَيْلَ مِنْ نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ثَلَاثًا "مظاہر امیر خان
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابو ذر! سمجھ لو، کسی مسلمان کو ایک بکری کا تحفہ دینا احد پہاڑ جتنا سونا چھوڑنے سے بہتر ہے، اور قیامت کے دن زیادہ مال والے کم ہوں گے، سوائے ان کے جو مال کو ایسے اور ایسے خرچ کریں، اور گھوڑے کی پیشانی میں خیر ہے۔“
وضاحت:
أبو الأسود الغفاري اور النعمان الغفاري، دونوں راوی مجہول الحال ہیں۔ س حدیث کے جملے (مفہوم) صحیح احادیث میں مختلف الفاظ سے ثابت ہیں: مال اکٹھا کرنے والوں کی مذمت بخاری و مسلم میں آئی ہے۔ گھوڑوں کے نواصی میں خیر کا مضمون صحیح بخاری اور صحیح مسلم سے ثابت ہے۔ یعنی متن کے مضامین دیگر صحیح احادیث سے تائید شدہ ہیں۔