سنن سعید بن منصور
كتاب الجهاد— جہاد کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي رُكُوبِ الْبَحْرِ باب: سمندر میں سوار ہونے (یعنی بحری سفر) کے بارے میں جو کچھ وارد ہوا ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: " كَلَّمَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى هَذَا الْبَحْرَ الْغَرْبِيَّ فَقَالَ: «يَا بَحْرُ إِنِّي خَلَقْتُكَ، وَأَحْسَنْتُ خَلْقَكَ، وَأَكْثَرْتُ فِيكَ مِنَ الْمَاءِ، وَإِنِّي حَامِلٌ فِيكَ عِبَادًا لِي يُكَبِّرُونِي، وَيَحْمَدُونِي، وَيُسَبِّحُونِي، وَيُهَلِّلُونِي، فَكَيْفَ أَنْتَ فَاعِلٌ بِهِمْ؟» قَالَ: أُغْرِقُهُمْ، قَالَ: «بَأْسُكَ فِي نَوَاحِيكَ، وَأَحْمِلُهُمْ عَلَى يَدَيَّ» وَكَلَّمَ اللَّهُ الْبَحْرَ الشَّرْقِيَّ، فَقَالَ: " يَا بَحْرُ إِنِّي خَلَقْتُكَ، وَأَحْسَنْتُ خَلْقَكَ، وَأَكْثَرْتُ فِيكَ مِنَ الْمَاءِ، وَإِنِّي حَامِلٌ فِيكَ عِبَادًا لِي يُكَبِّرُونِي، وَيَحْمَدُونِي، وَيُسَبِّحُونِي، وَيُهَلِّلُونِي، فَكَيْفَ أَنْتَ فَاعِلٌ بِهِمْ؟ فَقَالَ: إِذًا أُسَبِّحُكَ مَعَهُمْ، وَأُهَلِّلُكَ مَعَهُمْ، وَأَحْمِلُهُمْ بَيْنَ ظَهْرِي وَبَطْنِي , فَأَثَابَهُ رَبُّهُ الْحِلْيَةَ وَالصَّيْدَ "سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے مغربی سمندر سے کلام کیا اور فرمایا: ”اے سمندر! میں نے تجھے پیدا کیا ہے، اور تیرے پیدا کرنے کو خوب بہتر بنایا ہے، اور تجھ میں پانی کو بہت زیادہ رکھا ہے، اور میں اپنے کچھ بندوں کو تجھ پر سوار کرنے والا ہوں جو میری تکبیر، تحمید، تسبیح اور تہلیل کریں گے۔ تو ان کے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟“ سمندر نے عرض کیا: ”میں انہیں غرق کر دوں گا۔“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”میں تمہارا قہر تمہارے کناروں میں رکھ دوں گا، اور میں اپنے ان بندوں کو اپنے ہاتھوں پر اٹھا لوں گا۔“ پھر اللہ تعالیٰ نے مشرقی سمندر سے کلام کیا اور فرمایا: ”اے سمندر! میں نے تجھے پیدا کیا ہے، اور تیرے پیدا کرنے کو خوب بہتر بنایا ہے، اور تجھ میں پانی کو بہت زیادہ رکھا ہے، اور میں اپنے کچھ بندوں کو تجھ پر سوار کرنے والا ہوں جو میری تکبیر، تحمید، تسبیح اور تہلیل کریں گے۔ تو ان کے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟“ مشرقی سمندر نے عرض کیا: ”میں ان کے ساتھ مل کر تیری تسبیح، تحمید، اور تہلیل کروں گا اور انہیں اپنے اوپر، اپنے بطن اور اپنی پشت پر اٹھائے رکھوں گا۔“ اللہ تعالیٰ نے اسے بدلے میں زیورات اور شکار کا انعام عطا فرمایا۔