حدیث نمبر: 3537
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، أَنَّ عُمَرَ كَانَ يَقْبَلُ مَا أُعْطِيَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَغَيْرِهِ " قَالَ بَكْرٌ: وَمَا رَأَيْنَا أَحَدًا يُنْكِرُ ذَلِكَ، وَلَا يُغَيِّرُهُ قَالَ بَكْرٌ: وَأَخْبَرَنِي يَسَارٌ عَنْ شَيْخٍ مِنَ الْأَنْصَارِ أَنَّ رَجُلًا لَقِيَهُ، فَقَالَ: «أَغَازٍ أَنْتَ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «أَمْسِكْ هَذِهِ الْخَمْسَةَ الدَّنَانِيرَ فَاقْبَلْهَا» قَالَ بَكْرٌ: وَتَصْنَعُ فِيمَا أُعْطِيتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا كُنْتَ صَانِعًا بِمَالِكَ
مظاہر امیر خان

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ راہِ خدا میں دیے جانے والے مال کو قبول کرتے تھے اور اس میں کوئی برائی نہیں سمجھتے تھے۔

وضاحت:
پہلا حصہ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا قول): ✔️ ثقہ رواة سے مروی ہے، اثرِ صحیح ہے۔ دوسرا حصہ (شیخ انصاری کا واقعہ): ❌ سند میں مجہول شیخ ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔ تاہم بکر بن سوادہ کے اپنے تبصرے سے واضح ہوتا ہے کہ: "فی سبیل اللہ دی گئی چیز پر انسان ذاتی تصرف کا حق رکھتا ہے، جب وہ اس کے سپرد ہو جائے"
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3537
درجۂ حدیث محدثین: مرسل ولکن الحدیث صحيح
تخریج حدیث «مرسل ولکن الحدیث صحيح، «انفرد به المصنف من هذا الطريق»»