سنن سعید بن منصور
كتاب الجهاد— جہاد کی کتاب
بَابُ مَنْ قَالَ: انْقَطَعَتِ الْهِجْرَةُ باب: اان افراد کا بیان جنہوں نے کہا: ہجرت (کا حکم) ختم ہو چکا ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: قِيلَ لِصَفْوَانَ، وَذَلِكَ بَعْدَ الْفَتْحِ: إِنَّهُ لَا دِينَ لِمَنْ لَا يُهَاجِرُ، فَقَالَ: لَا أَصِلُ إِلَى مَنْزِلِي حَتَّى آتِيَ الْمَدِينَةَ، فَنَزَلَ عَلَى الْعَبَّاسِ، فَبَاتَ فِي الْمَسْجِدِ، فَجَاءَ سَارِقٌ فَسَرَقَ خَمِيصَتَهُ مِنْ تَحْتِ رَأْسِهِ فَأَخَذَهُ، فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِقَطْعِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هِيَ لَهُ، قَالَ: «فَهَلَّا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ، مَا جَاءَ بِكَ يَا أَبَا وَهْبٍ؟» قَالَ: قِيلَ إِنَّهُ لَا دِينَ لِمَنْ لَمْ يُهَاجِرْ، قَالَ: «ارْجِعْ أَبَا وَهْبٍ إِلَى أَبَاطِحِ مَكَّةَ، أَقِرُّوا عَلَى مَسْكَنِكُمْ فَقَدِ انْقَطَعَتِ الْهِجْرَةُ، وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ، وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا»سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ نے فتح مکہ کے بعد کہا: ”میں اپنے گھر واپس نہ جاؤں گا جب تک مدینہ نہ آ جاؤں۔“ وہ مسجد میں ٹھہرے، ایک چور نے ان کے سرہانے سے چادر چوری کر لی۔ چور کو پکڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ صفوان نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں نے اسے معاف کیا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر مجھے لانے سے پہلے معاف کیوں نہ کر دیا؟“ صفوان نے کہا: ”مجھے کہا گیا تھا کہ جو ہجرت نہ کرے اس کا دین نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب ہجرت ختم ہو گئی ہے، لیکن نیت اور جہاد باقی ہیں، اور جب نکالا جائے تو نکلو۔“