سنن سعید بن منصور
كتاب الجهاد— جہاد کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْجِهَادِ، وَإِنَّ الْحَجَّ جِهَادُ كُلِّ ضَعِيفٍ باب: جہاد کی فضیلت کا بیان، اور یہ کہ حج ہر کمزور کا جہاد ہے۔
حدیث نمبر: 3521
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ _ إِنْ كَانَ قَالَهُ _ «جِهَادُ الْكَبِيرِ وَالضَّعِيفِ وَالْمَرْأَةِ الْحَجُّ وَالْعُمْرَةُ»مظاہر امیر خان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (اگر فرمایا): ”بوڑھے، کمزور اور عورت کا جہاد حج اور عمرہ ہے۔“
وضاحت:
یہ حدیث سنداً صحیح ہے، تمام رواۃ ثقہ اور مشہور ہیں، کسی پر کوئی جرح معروف نہیں۔ البتہ حدیث کے متن میں الفاظ ہیں: "إن كان قاله" یعنی "اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہو"، جو کہ حدیث میں تردد کی علامت ہے، یعنی راوی کو یقین نہیں کہ یہ الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہیں۔ یہ تعبیر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں کبھی کبھار آتی ہے، جب انہیں الفاظ میں تردد ہوتا ہے۔ بعض محدثین اس وجہ سے اسے تعلیق یا وقف سمجھتے ہیں، لیکن اگر سند صحیح ہو (جیسا کہ یہاں ہے)، تو متن قابل قبول ہوتا ہے، خاص طور پر جب مفہوم دوسرے صحیح متون سے بھی تائید پاتا ہو۔ متن کا مفہوم: «بزرگ، کمزور اور عورت کا جہاد، حج اور عمرہ ہے» یہ مفہوم دوسری صحیح روایات سے بھی ثابت ہے، جیسے: عن عائشة رضی اللہ عنہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «جهادكن الحج» (سنن ابن ماجہ، حدیث: 2901، صحیح)