سنن سعید بن منصور
كتاب التفسير— تفسیر کی کتاب
قَوْلُهُ تَعَالَى: {لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلا مِنْ رَبِّكُمْ} باب: اللہ تعالیٰ کے قول «لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلا مِنْ رَبِّكُمْ» کا بیان
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي رَجُلٌ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ: فَقُلْتُ: يَا عَبْدَ اللهِ، إِنَّا قَوْمٌ نُكْرَى فِي هَذَا الْوَجْهِ، وَإِنَّ قَوْمًا يَزْعُمُونَ أَنْ لَا حَجَّ لَنَا ؟ فَقَالَ لَهُ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّا سَأَلْتَ عَنْهُ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا، حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: { لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلا مِنْ رَبِّكُمْ } فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلَ، فَقَالَ: أَنْتُمْ حُجَّاجٌ .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک شخص نے پوچھا: اے عبداللہ! ہم لوگ تجارت کے لیے کرایہ پر جاتے ہیں، اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہمارا حج نہیں ہوتا؟ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہی سوال کیا جو تم نے پوچھا، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: ﴿لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ﴾ (تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو)۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو بلایا اور فرمایا: ”تم لوگ حاجی ہو۔“