سنن سعید بن منصور
كتاب الجهاد— جہاد کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْجِهَادِ، وَإِنَّ الْحَجَّ جِهَادُ كُلِّ ضَعِيفٍ باب: جہاد کی فضیلت کا بیان، اور یہ کہ حج ہر کمزور کا جہاد ہے۔
حدیث نمبر: 3518
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو الْأَحْوَصِ، قَالَ: نا مُعَاوِيَةُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، قَالَتْ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «إِيمَانٌ بِاللَّهِ، وَجِهَادٌ فِي سيبلِ اللَّهِ، وَحَجٌّ مَبْرُورٌ»مظاہر امیر خان
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ”کون سا عمل افضل ہے؟“ فرمایا: ”اللہ پر ایمان، اللہ کی راہ میں جہاد، اور حج مبرور۔“
وضاحت:
سند میں کوئی راوی مجروح یا متروک نہیں ہے، راویوں کا مجموعی معیار "حسن" درجے کی روایت کے لیے کافی ہے۔ لہٰذا: یہ روایت سندًا حسن ہے۔ اور چونکہ یہ مضمون صحیحین (بخاری و مسلم) میں متعدد صحیح اسناد سے بھی آیا ہے (جیسے: روایت سیدہ عائشہ، ابن عباس، ابو ذر، ابوہریرہ وغیرہ سے)، اس لیے یہ حدیث شواہد و متابعات کی بنا پر "صحیح" درجہ رکھتی ہے۔