حدیث نمبر: 3511
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ دَرَّاجًا أَبَا السَّمْحِ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَجُلًا هَاجَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْيَمَنِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي هَاجَرْتُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ هَجَرْتَ الشِّرْكَ، وَلَكِنَّهُ الْجِهَادُ، هَلْ لَكَ أَحَدٌ بِالْيَمَنِ؟» قَالَ: أَبَوَايَ، قَالَ: «أَذِنَا لَكَ؟» قَالَ: لَا، قَالَ: «فَارْجِعْ، فَاسْتَأْذِنْهُمَا، فَإِنْ أَذِنَا لَكَ فَجَاهِدْ، وَإِلَّا فَبِرَّهُمَا»
مظاہر امیر خان

ایک یمنی شخص نے ہجرت کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: ”میں نے ہجرت کی ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے شرک سے ہجرت کی ہے، لیکن کیا یمن میں تمہارے والدین ہیں؟“ عرض کیا: ”جی ہاں۔“ فرمایا: ”کیا انہوں نے اجازت دی؟“ کہا: ”نہیں۔“ فرمایا: ”واپس جاؤ، ان سے اجازت لو، اگر اجازت دیں تو جہاد کرو، ورنہ ان کی خدمت کرو۔“

وضاحت:
دراج أبو السمح اگرچہ کچھ محدثین نے ان کے بارے میں نرمی کا اظہار کیا، لیکن جب وہ "ابو الهيثم" سے روایت کرے تو اس کی روایت ضعیف قرار دی گئی ہے۔ امام احمد، امام نسائی، ابن حبان، دارقطنی وغیرہ نے واضح طور پر اس سلسلۂ سند کو منکر یا غیر محفوظ کہا ہے۔ امام ترمذی نے بھی اس سند کے ساتھ آئی ہوئی احادیث کو اکثر غریب یا لیس بالقوی کہا ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3511
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 1111، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 422، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 2515، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2530، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2334، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 17904، وأحمد فى «مسنده» برقم: 11900، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 1402»
دراج أبو السمح (مولى بني عامر، المصری)
قال إبن حجر: صدوق في حديثه عن أبي الهيثم، ضعف
ابو حاتم نے کہا: "يكتب حديثه ولا يحتج به"
یحییٰ بن معین: "ضعيف الحديث"
ابن عدی نے کہا: "عامة ما يرويه غير محفوظ"
اکثر محدثین کے نزدیک "ضعیف" ہے خاص طور پر جب وہ "ابو الهيثم" سے روایت کرتا ہے۔