سنن سعید بن منصور
كتاب الجهاد— جہاد کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ غَزَا وَأَبَوَاهُ كَارِهَانِ باب: اُس شخص کا بیان جو جہاد کے لیے نکلا حالانکہ اس کے ماں باپ راضی نہ تھے۔
حدیث نمبر: 3510
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَهُ فِي الْجِهَادِ فَقَالَ لَهُ: «هَلْ مِنْ وَالِدٍ أَوْ وَالِدَةٍ؟» فَقَالَ: أُمِّي حَيَّةٌ، قَالَ: «فَانْطَلِقْ فَبِرَّهَا» فَانْطَلَقَ يَتَخَلَّلُ الرِّكَانَ يَحْمَدُ اللَّهَ "مظاہر امیر خان
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد کی اجازت مانگی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تمہارے والدین میں سے کوئی زندہ ہے؟“ اس نے کہا: ”میری ماں زندہ ہے۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اور اس کی خدمت کرو۔“