سنن سعید بن منصور
كتاب الجهاد— جہاد کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ باب: ان مجاہدین کی فضیلت کا بیان جو اللہ کی راہ میں نکلتے ہیں، اُن لوگوں پر جو (عذر کے بغیر) پیچھے بیٹھے رہتے ہیں۔
حدیث نمبر: 3494
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: جَاءَ الْفَتْحِيُّونَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو، وَالْحَارِثُ بْنُ هِشَامٍ، وَحُوَيْطِبُ بْنُ عَبْدِ الْعُزَّى يَسْتَأْذِنُونَ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَخَّرَ فِي إِذْنِهِمْ، فَقَالَ الْحَارِثُ: دُعِيَ الْقَوْمُ وَدُعِيتُمْ فَأَبْطَأْتُمْ، فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالُوا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا لَنَا عِنْدَكَ إِلَّا مَا نَرَى؟ قَالَ: «نَعَمْ، لَيْسَ إِلَّا مَا تَرَوْنَ» قَالُوا: فَإِنَّا نَطْلُبُ مَا هُوَ أَرْفَعُ مِنْ هَذَا. فَغَزَوْا فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى مَاتُوامظاہر امیر خان
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دربار میں فتحی صحابہ آئے، ان کو دیر سے اجازت ملی، انہوں نے شکایت کی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جو تم دیکھ رہے ہو، بس وہی ہے۔“ پھر وہ جہاد میں نکلے اور شہید ہو گئے۔