سنن سعید بن منصور
كتاب الجهاد— جہاد کی کتاب
بَابُ مَنْ خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا الْجِهَادُ باب: گھر سے صرف جہاد کے لیے نکلنے کا حکم
حدیث نمبر: 3489
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَكَفَّلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَنْ جَاهَدَ فِي سَبِيلِهِ، لَا يُخْرِجُهُ مِنْ بَيْتِهِ إِلَّا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِهِ، وَتَصْدِيقٌ بِكَلِمَتِهِ بِأَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ يَرْجِعَهُ إِلَى مَسْكَنِهِ مَعَ مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ»مظاہر امیر خان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے اس کے لیے ضمانت دی ہے جو صرف اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلا اور اس کی بات کی تصدیق کی کہ یا تو اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا یا گھر واپس کرے گا اجر یا غنیمت کے ساتھ۔“
وضاحت:
عبد الرحمن بن أبي الزناد – صدوق، لیکن کبار محدثین کے نزدیک ان کی روایت میں کچھ ضعف ہے خاص طور پر مدینہ سے باہر کی روایات میں۔
عبد الرحمن بن أبي الزناد کے بارے میں: ابن معین: "لیس ممن يحتج به، يكتب حديثه"
أحمد بن حنبل: "يضعف حديثه إذا روى عن غير أهل المدينة"
نسائی: "ليس بالقوي" لہٰذا یہ سند حسن لغيره کے درجے کی ہے۔
عبد الرحمن بن أبي الزناد کے بارے میں: ابن معین: "لیس ممن يحتج به، يكتب حديثه"
أحمد بن حنبل: "يضعف حديثه إذا روى عن غير أهل المدينة"
نسائی: "ليس بالقوي" لہٰذا یہ سند حسن لغيره کے درجے کی ہے۔