حدیث نمبر: 3483
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ حَدَّثَهُ قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ قَالَ: «الْإِسْلَامُ بَيْتٌ وَاسِعٌ مَنْ دَخَلَ فِيهِ وَسِعَهُ، وَالْهِجْرَةُ بَيْتٌ وَاسِعٌ مَنْ دَخَلَ فِيهِ وَسِعَهُ، وَالْجِهَادُ بَيْتٌ وَاسِعٌ مَنْ دَخَلَ فِيهِ وَسِعَهُ، فَمَنْ أَسْلَمَ وَهَاجَرَ وَجَاهَدَ فَلَمْ يَدَعْ لِلْخَيْرِ مَطْلَبًا إِلَّا طَلَبَهُ وَلَا لِلشَّرِّ مَهْرَبًا إِلَّا هَرَبَهُ»
مظاہر امیر خان

سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”اسلام ایک کشادہ گھر ہے، ہجرت ایک کشادہ گھر ہے، جہاد ایک کشادہ گھر ہے، جو ان سب میں داخل ہوا، اس کے لیے ہر خیر موجود ہے۔“

وضاحت:
سند میں انقطاع (قطع) ہے کیونکہ "بلَغني" کا مطلب ہوتا ہے: روایت مرسل یا منقطع ہے۔ تابعی کا "بلغني" یا "يُقال" کہہ کر روایت کرنا حجت نہیں ہوتا جب تک وہ اسے متصل سند کے ساتھ بیان نہ کرے۔یہ اثر سنداً ضعیف (منقطع) ہے، کیونکہ بکر بن سوادة نے اسے بلاغاً روایت کیا ہے، یعنی واسطہ مجہول ہے۔
متن کا حکم: اثر کا معنی صحيح اور حکیمانہ ہے کہ: اسلام، ہجرت، اور جہاد وہ عظیم دروازے ہیں جن سے داخل ہو کر خیر کی تلاش اور شر سے فرار ممکن ہے۔ یہ بات دیگر صحیح نصوص سے بھی موافق ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3483
درجۂ حدیث محدثین: مرسل
تخریج حدیث «مرسل، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2306، والطبراني فى«الكبير» برقم: 778»