سنن سعید بن منصور
كتاب الجهاد— جہاد کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ باب: اللہ کی راہ میں جہاد کی فضیلت کا بیان
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ: نا مُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ مَا قَعَدْتُ عَنْ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَبَدًا، وَلَكِنْ لَا أَجِدُ سَعَةً، وَلَا يَجِدُونَ قُوَّةً فَيَتْبَعُونِي، وَلَا تَطِيبُ أَنْفُسُهُمْ أَنْ يَقْعُدُوا بَعْدِي» وَقَالَ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ «خِلَافَ سَرِيَّةٍ»سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر مجھے مومنوں پر مشقت ڈالنے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں کبھی بھی اللہ کی راہ میں جہاد پر نکلنے والی کسی سریہ (فوجی مہم) سے پیچھے نہ رہتا۔ لیکن (اس وقت) میرے پاس اتنی وسعت نہیں، اور نہ ہی وہ (یعنی صحابہ) طاقت رکھتے ہیں کہ میرے ساتھ نکلیں، اور ان کے دل یہ گوارا نہیں کرتے کہ وہ میرے پیچھے بیٹھے رہیں۔“ اور ابن ابی الزناد رحمہ اللہ نے روایت کے آخر میں کہا: ”خلاف سریہ“ (یعنی جہاد کے کسی لشکر سے پیچھے رہنا خلاف طبیعت و شوق تھا)۔
عبد الرحمن بن أبي الزناد کے بارے میں: ابن معین: "لیس ممن يحتج به، يكتب حديثه"
أحمد بن حنبل: "يضعف حديثه إذا روى عن غير أهل المدينة"
نسائی: "ليس بالقوي" لہٰذا یہ سند حسن لغيره کے درجے کی ہے۔