حدیث نمبر: 3477
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ: نا مُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ مَا قَعَدْتُ عَنْ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَبَدًا، وَلَكِنْ لَا أَجِدُ سَعَةً، وَلَا يَجِدُونَ قُوَّةً فَيَتْبَعُونِي، وَلَا تَطِيبُ أَنْفُسُهُمْ أَنْ يَقْعُدُوا بَعْدِي» وَقَالَ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ «خِلَافَ سَرِيَّةٍ»
مظاہر امیر خان

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر مجھے مومنوں پر مشقت ڈالنے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں کبھی بھی اللہ کی راہ میں جہاد پر نکلنے والی کسی سریہ (فوجی مہم) سے پیچھے نہ رہتا۔ لیکن (اس وقت) میرے پاس اتنی وسعت نہیں، اور نہ ہی وہ (یعنی صحابہ) طاقت رکھتے ہیں کہ میرے ساتھ نکلیں، اور ان کے دل یہ گوارا نہیں کرتے کہ وہ میرے پیچھے بیٹھے رہیں۔“ اور ابن ابی الزناد رحمہ اللہ نے روایت کے آخر میں کہا: ”خلاف سریہ“ (یعنی جہاد کے کسی لشکر سے پیچھے رہنا خلاف طبیعت و شوق تھا)۔

وضاحت:
عبد الرحمن بن أبي الزناد – صدوق، لیکن کبار محدثین کے نزدیک ان کی روایت میں کچھ ضعف ہے خاص طور پر مدینہ سے باہر کی روایات میں۔
عبد الرحمن بن أبي الزناد کے بارے میں: ابن معین: "لیس ممن يحتج به، يكتب حديثه"
أحمد بن حنبل: "يضعف حديثه إذا روى عن غير أهل المدينة"
نسائی: "ليس بالقوي" لہٰذا یہ سند حسن لغيره کے درجے کی ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3477
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن لغيره
تخریج حدیث «إسناده حسن لغيره، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 36، 237، 2785، 2787، 2797، 2803، 2972، 3123، 5533، 7226، 7227، 7457، 7463، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1876، ومالك فى «الموطأ» برقم: 1616، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4610، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3098، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1619، 1656، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2436، 2450، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2753، 2795، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2300، 2311، 2312، 2320، 2551، 2571، 2572،وأحمد فى «مسنده» برقم: 7278، والحميدي فى «مسنده» برقم: 1069، 1070، 1118، 1119، 1120، 1123، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19659، 19660»
(1) كذا في طبعة الدار طبعة الدار السلفية بالهند، ولعل الصواب: (الحزامى)