حدیث نمبر: 3476
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ كِنَانَةَ أُرَاهُ عُتْوَارِيًّا، قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ لِي: مِنْ بَنِي فُلَانٍ أَنْتَ؟ قُلْتُ: لَا، وَلَكِنَّهُمْ أَرْضَعُونِي، فَقَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: «إِنَّ اللَّبَنَ يُشَبَّهُ عَلَيْهِ»
مظاہر امیر خان

ایک شخص، جو کنانہ قبیلے سے تھا (اور راوی کو غالب گمان تھا کہ وہ عتواری ہے)، بیان کرتا ہے: ”میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا تھا، تو انہوں نے مجھ سے پوچھا: ’کیا تم فلاں قبیلے سے ہو؟‘ میں نے جواب دیا: ’نہیں، لیکن انہوں نے مجھے دودھ پلایا ہے۔‘ تو انہوں نے فرمایا: ’میں نے سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا: دودھ (کی وجہ سے رشتہ داری) میں شبہ ہو سکتا ہے۔‘“

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الطلاق / حدیث: 3476
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 997، 2299، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 15780، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 13953»
رجل من كنانة أراه عتواريًا – راوی مبہم ہے (مجہول)، البتہ سفیان نے اسے "أراه عتواريًا" کہا، یعنی "غالبًا عتواری ہے"۔