سنن سعید بن منصور
كتاب الطلاق— طلاق کی کتاب
بَابُ الْغُلَامِ بَيْنَ الْأَبَوَيْنِ أَيُّهُمَا أَحَقُّ بِهِ باب: بچہ ماں اور باپ دونوں کے درمیان ہو تو ان میں سے کون اس کی پرورش کا زیادہ حق رکھتا ہے؟
حدیث نمبر: 3470
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَحْيَى الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ حَبَّانَ بْنِ أَبِي جَبَلَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلٌّ أَحَقُّ بِمَالِهِ مِنْ وَلَدِهِ وَوَالِدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ»مظاہر امیر خان
سیدنا حسن رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر شخص اپنے مال میں اپنی اولاد، اپنے والد اور سب لوگوں سے زیادہ حق دار ہے۔“
وضاحت:
سند: مرسل (ضعیف از خود)، مگر شواہد کی وجہ سے حسن لغيره، حدیث کے یہ الفاظ: «أنت ومالك لأبيك» کئی اسانید سے مختلف صحابہ سے مروی ہیں: جابر بن عبد الله (صحیح ابن ماجہ، رقم: 2291) عبد الله بن عمرو (سنن أبي داود، رقم: 3530) عبد الله بن مسعود (الطبراني) سعد بن أبي وقاص
امام ترمذی نے بعض اسانید کو "حسن صحيح" کہا ہے۔
امام ترمذی نے بعض اسانید کو "حسن صحيح" کہا ہے۔