سنن سعید بن منصور
كتاب الطلاق— طلاق کی کتاب
بَابُ الْغُلَامِ بَيْنَ الْأَبَوَيْنِ أَيُّهُمَا أَحَقُّ بِهِ باب: بچہ ماں اور باپ دونوں کے درمیان ہو تو ان میں سے کون اس کی پرورش کا زیادہ حق رکھتا ہے؟
حدیث نمبر: 3469
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ لِي مَالًا وَوَلَدًا، وَلِأَبِي مَالٌ وَوَلَدٌ، يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِمَالِي إِلَى مَالِهِ وَوَلَدِهِ، فَقَالَ: «أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ»مظاہر امیر خان
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ”میرے اور میرے والد دونوں کے پاس مال اور اولاد ہیں، اور وہ میرا مال اپنے مال اور اپنی اولاد پر خرچ کرنا چاہتے ہیں۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اور تمہارا مال تمہارے باپ کے لیے ہے۔“