سنن سعید بن منصور
كتاب الطلاق— طلاق کی کتاب
بَابُ الْغُلَامِ بَيْنَ الْأَبَوَيْنِ أَيُّهُمَا أَحَقُّ بِهِ باب: بچہ ماں اور باپ دونوں کے درمیان ہو تو ان میں سے کون اس کی پرورش کا زیادہ حق رکھتا ہے؟
حدیث نمبر: 3467
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّ لِأَبِي مَالًا وَعِيَالًا، وَلِي مَالٌ وَعِيَالٌ، وَإِنَّهُ يُرِيدُ أَنْ يَأْخُذَ مَالِيَ فَيُنْفِقَهُ عَلَى عِيَالِهِ، فَقَالَ: «أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ»مظاہر امیر خان
ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ”میرے پاس بھی مال ہے اور میرے والد کے پاس بھی مال اور اہل و عیال ہیں، لیکن والد میرا مال اپنے خرچ میں لینا چاہتا ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اور تمہارا مال تمہارے والد کا ہے۔“