سنن سعید بن منصور
كتاب الطلاق— طلاق کی کتاب
بَابُ الْغُلَامِ بَيْنَ الْأَبَوَيْنِ أَيُّهُمَا أَحَقُّ بِهِ باب: بچہ ماں اور باپ دونوں کے درمیان ہو تو ان میں سے کون اس کی پرورش کا زیادہ حق رکھتا ہے؟
حدیث نمبر: 3457
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنْ أُمِّهِ «أَنَّ خَالَتُهُ خَاصَمَتْهَا عَصَبَةُ وَلَدِهَا إِلَى شُرَيْحٍ فِي بِنْتٍ وَابْنٍ لَهَا، فَاخْتَارَتِ الِابْنَةُ أُمَّهَا وَاخْتَارَ الْغُلَامُ عَمَّهُ»مظاہر امیر خان
ایک عورت نے اپنے بھتیجے اور بھانجی کے سلسلے میں قاضی شریح رحمہ اللہ کے پاس مقدمہ دائر کیا، تو لڑکی نے ماں کو اختیار کیا اور لڑکے نے چچا کو۔
وضاحت:
خلاصہ: یہ روایت صحابۂ کرام کی سنت کی اتباع اور عدل و حکمت پر مبنی فیصلوں کی ایک زندہ مثال ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بچہ بالغ نہ ہونے کے باوجود اسے والدین کے درمیان انتخاب کی اجازت دی، جو کہ عدل، مصلحت اور شفقت کا امتزاج ہے۔