سنن سعید بن منصور
كتاب الطلاق— طلاق کی کتاب
بَابُ الْغُلَامِ بَيْنَ الْأَبَوَيْنِ أَيُّهُمَا أَحَقُّ بِهِ باب: بچہ ماں اور باپ دونوں کے درمیان ہو تو ان میں سے کون اس کی پرورش کا زیادہ حق رکھتا ہے؟
حدیث نمبر: 3455
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، أنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: أُتِيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي غُلَامٍ يَتِيمٍ، فَخَيَّرَهُ فَاخْتَارَ أُمَّهُ، وَتَرَكَ عَمَّهُ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: «أَمَا إِنَّ جَدْبَ أُمِّكَ خَيْرٌ لَكَ مِنْ خِصْبِ عَمِّكَ» قَالَ الصَّائِغُ بِالدَّالِمظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک یتیم بچے کا معاملہ لایا گیا، تو انہوں نے بچے کو اختیار دیا، چنانچہ اس نے اپنی ماں کو منتخب کیا اور چچا کو چھوڑ دیا۔ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یقیناً تمہاری ماں کی فقر اور تنگ دستی تمہارے لیے تمہارے چچا کی خوشحالی اور سکت سے بہتر ہے۔“