حدیث نمبر: 3455
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، أنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: أُتِيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي غُلَامٍ يَتِيمٍ، فَخَيَّرَهُ فَاخْتَارَ أُمَّهُ، وَتَرَكَ عَمَّهُ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: «أَمَا إِنَّ جَدْبَ أُمِّكَ خَيْرٌ لَكَ مِنْ خِصْبِ عَمِّكَ» قَالَ الصَّائِغُ بِالدَّالِ
مظاہر امیر خان

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک یتیم بچے کا معاملہ لایا گیا، تو انہوں نے بچے کو اختیار دیا، چنانچہ اس نے اپنی ماں کو منتخب کیا اور چچا کو چھوڑ دیا۔ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یقیناً تمہاری ماں کی فقر اور تنگ دستی تمہارے لیے تمہارے چچا کی خوشحالی اور سکت سے بہتر ہے۔“

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الطلاق / حدیث: 3455
درجۂ حدیث محدثین: مرسل
تخریج حدیث «مرسل، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2278، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 12608»
الولید بن مسلم صدوق، حسن الحدیث مگر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع ممکن نہیں ہے
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس قول کی متعدد طرق سے تائید بھی ملتی ہے۔