سنن سعید بن منصور
كتاب الطلاق— طلاق کی کتاب
بَابُ الْغُلَامِ بَيْنَ الْأَبَوَيْنِ أَيُّهُمَا أَحَقُّ بِهِ باب: بچہ ماں اور باپ دونوں کے درمیان ہو تو ان میں سے کون اس کی پرورش کا زیادہ حق رکھتا ہے؟
حدیث نمبر: 3453
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا عُثْمَانُ الْبَتِّيُّ، أنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سَلَمَةَ الْأَنْصَارِيُّ، أَنَّ جَدَّهُ أَسْلَمَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ شِئْتُمَا خَيَّرْتُمَاهُ»، وَأَقَامَ الْأَبَ فِي نَاحِيَةٍ وَالْأُمَّ فِي نَاحِيَةٍ، ثُمَّ خَيَّرَ الْغُلَامَ، فَانْطَلَقَ نَحْوَ أُمِّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ اهْدِهِ» فَرَجَعَ الْغُلَامُ إِلَى أَبِيهِمظاہر امیر خان
عثمان البتی رحمہ اللہ، عبدالحمید بن سلمہ انصاری رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے دادا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اسلام لائے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم دونوں (ماں اور باپ) چاہو تو بچے کو اختیار دے دو۔“ چنانچہ باپ کو ایک طرف رکھا گیا اور ماں کو ایک طرف، پھر بچے کو اختیار دیا گیا، تو وہ اپنی ماں کی طرف چلا گیا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: ”اے اللہ! اسے ہدایت دے۔“ تو بچہ اپنے باپ کی طرف واپس آ گیا۔