سنن سعید بن منصور
كتاب التفسير— تفسیر کی کتاب
قَوْلُهُ تَعَالَى: {فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلا رَفَثَ وَلا فُسُوقَ وَلا جِدَالَ فِي الْحَجِّ} باب: اللہ تعالیٰ کے قول «فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلا رَفَثَ وَلا فُسُوقَ وَلا جِدَالَ فِي الْحَجِّ» کا بیان
حدیث نمبر: 345
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا عَوْفٌ، عَنْ زِيَادِ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: نَزَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ، عَنْ رَاحِلَتِهِ، فَجَعَلَ يَسُوقُهَا، وَهُوَ يَرْتَجِزُ وَيَقُولُ: ¤ وَهُنَّ يَمْشِينَ بِنَا هَمِيسًا إِنْ تَصْدُقِ الطَّيْرُ نَنِكْ لَمِيسًا ¤ ذَكَرَ الْجِمَاعَ، وَلَمْ يُكَنِّ عَنْهُ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبَّاسٍ تَقُولُ الرَّفَثَ وَأَنْتَ مُحْرِمٌ ؟ ! قَالَ: الرَّفَثُ: مَا رُوجِعَ بِهِ النِّسَاءُ .مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اپنی سواری سے اترے، اسے ہانکنے لگے اور یہ شعر پڑھنے لگے: «وَهُنَّ يَمْشِينَ بِنَا هَمِيسًا، إِنْ تَصْدُقِ الطَّيْرُ نَنِكْ لَمِيسًا» (وہ سبک خرامی سے ہمیں لے جا رہی ہیں، اگر پرندے سچ بولتے ہیں تو ہم لمیس سے ہمبستری کریں گے۔) انہوں نے جماع کا ذکر صریح الفاظ میں کیا اور کوئی کنایہ نہ کیا، میں نے کہا: اے ابوعباس! آپ محرم ہو کر رفث کر رہے ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا: رفث وہ ہے جس میں عورتوں سے براہ راست بات کی جائے۔