حدیث نمبر: 3442
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا مُجَالِدٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، نا مَسْرُوقٌ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ خَرَجَ مِنْ مَنْزِلِهِ ذَاتَ يَوْمٍ وَدَارُهُ مُمْتَلِئَةٌ مِنَ النَّاسِ، فَقَالَ: مَنْ جَاءَ مِنْكُمْ يَسْأَلُ عَنْ فَرِيضَةٍ أَوْ أَمْرٍ نَزَلَ بِهِ مِنْ حُكُومَةٍ أَوْ غَيْرِ ذَلِكَ فَلْيَتَنَحَّ، وَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ جَاءَ لِيُطْلِعَنَا عَلَى أَمْرٍ قَدْ أَسَرَّهُ فَلْيُسِرَّ التَّوْبَةَ كَمَا أَسَرَّ الْخَطِيئَةَ؛ فَإِنَّا لَا نَمْلِكُ إِلَّا اللِّعَانَ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتَهُ وَإِنَّهَا مُشْتَبِكَةُ النَّسَبِ فِي الْحَيِّ، وَإِنَّهَا كَانَتْ تَسْتَأْذِنُنِي فِي الزِّيَارَةِ إِمَّا يَوْمَ يَحُجُّونَ، وَإِمَّا مَأْتَمٌ يَكُونُ فِيهِمْ أَوْ نَحْو ذَلِكَ، فَاسْتَأْذَنَتْنِي ذَاتَ يَوْمٍ، فَأَذِنْتُ لَهَا، فَلَمَّا خَلَا لِيَ الْبَيْتُ وَقَعْتُ عَلَى جَارِيَتِهَا، فَحَمَلَتْ، فَلَمَّا اسْتَبَانَ الْحَمْلُ قَالَتْ لِيَ امْرَأَتِي: إِنَّكَ ابْنُ عَمِّي، وَأَنَا أَكْرَهُ فَضِيحَتَكَ فَأْتِ بِقَوْمٍ مِنَ الْحَيِّ وَأَشْهِدْهُمْ أَنِّي قَدْ وَهَبْتُهَا لَكَ قَالَ: فَفَعَلْتُ، فَمَا التَّوْبَةُ مِمَّا صَنَعْتُ؟ وَمَا ثَوَابُهَا عَلَى مَا فَعَلَتْ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: «اسْتَتِرْ بِسِتْرِ اللَّهِ، وَتُبْ إِلَى اللَّهِ، وَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَشْتَرِيَهَا، فَتُعْتِقَهَا، لَعَلَّ ذَلِكَ يُكَفِّرُ عَنْكَ مَا كَانَ مِنْكَ، وَأَمَّا ثَوَابُهَا فَأَعْطِهَا مِثْلَهَا»مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جو توبہ کرے وہ گناہ کو چھپائے، اور جب ایک شخص نے اپنی بیوی کی باندی سے زنا کا معاملہ بیان کیا تو فرمایا: توبہ کر اور اسے خرید کر آزاد کر، اور بیوی کو اس نیکی کا بدلہ دے۔“
وضاحت:
ضعف کا سبب: مجالد بن سعید — جو ضعیف الحفظ ہے، مگر قصہ موافق للفقه والعقل ہے، اور مؤید بالآثار بھی ہے۔
فقہی نکات: بیوی کی باندی سے وطی: اگر بغیر اجازت ہو تو حرام ہے، زنا نہیں۔ یہاں بیوی نے گواہ لا کر باندی شوہر کو ہبہ کی، تاکہ وہ ملک یمین میں آ جائے۔
توبہ کی تلقین: ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے حد قائم نہیں کی۔ ستاریت (پردہ پوشی) کو برقرار رکھا، اور توبہ و اصلاح کا حکم دیا۔
باندی کو آزاد کرنا: گناہ کا کفارہ ہو سکتا ہے۔
بیوی کی نیکی کا بدلہ: اخلاقی اور ایمانی تعلیم: جس نے تمہیں رسوائی سے بچایا، اس کے ساتھ احسان کرو۔
فقہی نکات: بیوی کی باندی سے وطی: اگر بغیر اجازت ہو تو حرام ہے، زنا نہیں۔ یہاں بیوی نے گواہ لا کر باندی شوہر کو ہبہ کی، تاکہ وہ ملک یمین میں آ جائے۔
توبہ کی تلقین: ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے حد قائم نہیں کی۔ ستاریت (پردہ پوشی) کو برقرار رکھا، اور توبہ و اصلاح کا حکم دیا۔
باندی کو آزاد کرنا: گناہ کا کفارہ ہو سکتا ہے۔
بیوی کی نیکی کا بدلہ: اخلاقی اور ایمانی تعلیم: جس نے تمہیں رسوائی سے بچایا، اس کے ساتھ احسان کرو۔