حدیث نمبر: 3439
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ: نا الْحَسَنُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ الْهُذَلِيِّ، أَنَّ رَجُلًا خَرَجَ فِي سَفَرٍ، فَبَعَثَتْ مَعَهُ امْرَأَتُهُ بِخَادِمٍ لَهَا تَخْدُمُهُ، فَوَقَعَ عَلَيْهَا فِي سَفَرِهِ، فَلَمَّا قَدِمَ ذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ كُنْتَ اسْتَكْرَهْتَهَا فَهِيَ حُرَّةٌ وَعَلَيْكَ مِثْلُهَا لِمَوْلَاتِهَا، وَإِنْ كَانَتْ طَاوَعَتْكَ فَهِيَ أَمَةٌ وَعَلَيْكَ مِثْلُهَا»
مظاہر امیر خان

سیدنا سلمہ بن محبق ہذلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر باندی کو مجبور کیا ہے تو وہ آزاد ہے اور اس کی مثل باندی ادا کرو، اور اگر اس نے خود راضی ہو کر کیا ہے تو وہ باندی ہے اور بدلہ دینا ہو گا۔“

وضاحت:
فقہی اثر: اس حدیث سے شرعی حکم اخذ نہیں کیا جا سکتا: کیونکہ: سند مرسل ہے (الحسن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک واسطہ منقطع) متن پر محدثین نے جرح کی روایت میں اشکال ظاہر کیا ہے: غلام کا باندی سے تعلق، اور غلام کا تاوان دینا؟ (تفصیل موجود نہیں)
امام ابن ابی حاتم نے "الجرح والتعدیل" میں سلمہ بن المحبق سے حسن بصری کی روایت ذکر کی ہے، لیکن سماع کی تصریح نہیں کی۔
مسند احمد (جلد 4، حدیث 17836) میں حسن بصری، سلمہ بن المحبق رضی اللہ عنہ سے ایک روایت نقل کرتے ہیں، لیکن وہاں بھی سماع کی وضاحت نہیں۔
ابن حجر نے تہذیب التهذیب میں صرف روایت کی نشاندہی کی ہے، سماع کے ثبوت یا انقطاع پر کچھ نہیں کہا۔
نتیجہ: اگرچہ حسن بصری رحمہ اللہ اور سلمہ بن المحبق رضی اللہ عنہ کے درمیان زمانہ ملا ہوا ہے، مگر سماع کی تصریح نہ ہونے کی وجہ سے محدثین کے نزدیک ان کی روایت "مرسل صحابی" کے درجے میں شمار ہوگی،
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الطلاق / حدیث: 3439
درجۂ حدیث محدثین: مرسل
تخریج حدیث «مرسل، أخرجه النسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3363، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 5531، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4460، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2552، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2262، والدارقطني فى «سننه» برقم: 3100، وأحمد فى «مسنده» برقم: 16156، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 29145»
لا يثبت خبر سلمة بن المحبق، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (2 / 333)