حدیث نمبر: 3430
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ «أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ الْأَمَةَ عَلَى أَنْ لَا تُبَاعَ وَلَا تُوهَبَ»مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما غلامی کی ایسی خریداری کو ناپسند کرتے تھے جس میں شرط ہو کہ وہ باندی نہ بیچی جائے اور نہ دی جائے۔
وضاحت:
فقہی نکتہ: بیع میں ایسی شرط لگانا جو مالک کے تصرف کو محدود کرے (کہ نہ بیچے نہ ہبہ کرے)، اسے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ ناپسند کرتے تھے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ: بیع ایک معاہدۂ نقل ملکیت ہے۔ اگر آپ کسی کو چیز بیچیں لیکن اس پر ایسی پابندی عائد کر دیں کہ وہ نہ بیچ سکے نہ ہبہ کرے، تو یہ دراصل ناقص ملکیت بنتی ہے، اور شرعاً مکروہ یا فاسد قرار دی جاتی ہے۔