حدیث نمبر: 3429
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: اشْتَرَى عَبْدُ اللَّهِ مِنِ امْرَأَتِهِ جَارِيَةً، وَاشْتَرَطَتْ خِدْمَتَهَا، فَسَأَلَ عُمَرَ فَقَالَ: «لَيْسَ مِنْ مَالِكَ مَا كَانَ فِيهِ شَرْطٌ لِغَيْرِكَ»مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیوی سے ایک باندی خریدی اور بیوی نے اس کی خدمت کی شرط رکھی، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو فرمایا: ”جس مال میں کسی غیر کا حق ہو، وہ تیرا مال نہیں۔“
وضاحت:
فقہی نکتہ: اگر کوئی چیز (لونڈی یا غلام) بیچی جائے اور اس پر کسی اور کے لیے شرط باقی رکھی جائے، مثلاً: خدمت کی شرط، واپس خریدنے کی شرط، وغیرہ تو وہ مکمل نفی ملک کرتی ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک زریں قاعدہ بیان فرمایا: «لَيْسَ مِنْ مَالِكَ مَا كَانَ فِيهِ شَرْطٌ لِغَيْرِكَ» "جس میں کسی دوسرے کا مشروط حق ہو، وہ تمہارا مال شمار نہیں ہوتا۔"