حدیث نمبر: 3428
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، اشْتَرَى مِنِ امْرَأَتِهِ جَارِيَةً، فَاشْتَرَطَتْ عَلَيْهِ: إِنْ هُوَ بَاعَهَا فَهِيَ أَحَقُّ بِهَا بِالثَّمَنِ، فَسَأَلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: «لَا تَقْرَبْهَا وَلِأَحَدٍ فِيهَا شَرْطٌ»
مظاہر امیر خان

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سے ایک باندی خریدی اور شرط لگائی کہ اگر وہ اسے بیچے گا تو بیوی کو خریدنے کا حق ہو گا، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو فرمایا: ”جب تک کسی اور کا شرط باقی ہو، اس سے فائدہ نہ اٹھاؤ۔“

وضاحت:
فقہی مسئلہ: لونڈی کی ملکیت مکمل نہ ہو جب تک اس پر کسی دوسرے کا شرط یا حق باقی ہو۔ نکاح (یا وطی) کا جواز اسی وقت ہے جب ملکیت مکمل اور بلاشرط ہو۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ جب تک شرط ختم نہ ہو جائے، باندی کے ساتھ مباشرت نہ کی جائے۔ ? فقہاء کا موقف: مالک کو اپنی ملک میں صرف اسی وقت وطی (تعلق) کی اجازت ہے، جب کہ ملکیت مکمل اور آزاد از شرط ہو۔ اگر کوئی شرط ہو کہ "فروخت پر فلاں کو ترجیح حاصل ہوگی" تو یہ شرط تملک میں نقص شمار ہو گی، اور تعلق رکھنا ناجائز ہوگا۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الطلاق / حدیث: 3428
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وأخرجه مالك فى «الموطأ» برقم: 2280، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2251، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 10939، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 14291»