حدیث نمبر: 3420
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: إِنَّ خَادِمًا لِي تَسَنَّى عَلَى نَاقَةٍ لِي، وَأَنَا أَعْزِلُ عَنْهَا، فَحَمَلَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ [7/132] صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: « مَا قَدَّرَ اللهُ أَنْ يَخْلُقَهَا إِلَّا وَهِيَ كَائِنَةٌ » .
مظاہر امیر خان

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: ”میرے ایک خادم نے میری ایک اونٹنی پر سوار ہو کر اس پر عزل کیا، لیکن وہ حاملہ ہو گئی۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ نے مقدر کیا ہے وہ ہو کر رہے گا، اور وہ حاملہ ہو کر ہی رہنے والی تھی۔“

وضاحت:
فقہی فائدہ: یہ حدیث عزل کی تاثیر اور قضا و قدر کے مسئلے کو واضح کرتی ہے۔
اصل پیغام: عزل بچاؤ کا طریقہ ہو سکتا ہے، مگر تقدیرِ الٰہی کے مقابلے میں مؤثر نہیں۔
جو بچہ مقدر ہو، وہ پیدا ہو کر رہے گا، خواہ عزل کیا جائے یا نہ کیا جائے۔
? دیگر احادیث کی تائید: صحیح مسلم، کتاب النکاح، حدیث: "العزل لا يمنع شيئا قدره الله"
(عزل اللہ کی طرف سے جو مقدر ہو، اُسے روک نہیں سکتا)
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الطلاق / حدیث: 3420
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1439، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4194، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 9030، 9048، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2173، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1136، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 89، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2243، والحميدي فى «مسنده» برقم: 1295، وأحمد فى «مسنده» برقم: 14569، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 16859»
الأعمش (سلیمان بن مهران) مدلس، مگر یہاں صراحت بالسماع نہیں، لیکن قابل قبول ہے چونکہ باقی سند صحیح ہے