حدیث نمبر: 34
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: إِنِّي قَدِ اسْتَمَعْتُ إِلَى الْقِرَاءَةِ فَلَمْ أَسْمَعْهُمْ إِلَّا مُتَقَارِبِينَ، فَاقْرَؤُوا عَلَى مَا عُلِّمْتُمْ ! وَإِيَّاكُمْ وَالتَّنَطُّعَ وَالِاخْتِلَافَ، فَإِنَّمَا هُوَ كَقَوْلِ أَحَدِكُمْ: أَقْبِلْ، وَهَلُمَّ، وَتَعَالَ " .مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے قراءت سنی تو سب کو ایک دوسرے سے قریب پایا، پس جس طرح تمہیں سکھایا گیا ہے، اسی طرح پڑھو! اور حد سے تجاوز اور اختلاف سے بچو، کیونکہ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی کہے: آؤ، «ھلم»، اور «تعال»۔ («ھلم» اور «تعال» یعنی دونوں کا معنی ہے آؤ)۔