حدیث نمبر: 3312
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، وَحَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، أَنَّهَا قَالَتْ فِي الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجهَا: «إِنَّهَا لَا تَمَسُّ خِضَابًا، وَلَا تَكْتَحِلُ بِكُحْلٍ، وَلَا تَلْبَسُ مَصْبُوغًا، وَلَا تَمَسُّ مِنَ الطِّيبِ إِلَّا نُبَذًا مِنْ قُسْطٍ وَأَظْفَارٍ عِنْدَ طُهْرِهَا»
مظاہر امیر خان

سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: ”بیوہ عورت خوشبو اور رنگین کپڑے سے بچے، قسط اور اظفار کی خوشبو سے غسل کے وقت تھوڑا استعمال کر سکتی ہے۔“

وضاحت:
وضاحت: «ما تجتنبه المتوفى عنها زوجها فى عدتها» یعنی: "وہ امور جن سے شوہر کی وفات کے بعد عدت گزارنے والی عورت اجتناب کرے" کا تسلسل ہے، اور یہ روایت صحابیہ سیدہ اُم عطیہ رضی اللہ عنہا کی فقہی وضاحت پر مشتمل ہے، جو عدتِ وفات میں عورت کے لیے زینت سے اجتناب کی تفصیل بیان کرتی ہیں۔
فائدہ: ستنباطی قاعدہ: عدتِ وفات کی اصل روح "إحداد" (سوگ) ہے، اور اس میں ہر وہ چیز ممنوع ہے جو زینت یا خوشنمائی پر دلالت کرے، سوائے شرعی ضرورت یا نظافت کے۔ ✅ خلاصہ: یہ حدیث سنداً صحیح اور متعدد صحابیہ و تابعین کی سند سے مضبوط ہے اور اس سے عدتِ وفات کے دوران عورت کی زینت، لباس، مہندی، سرمہ اور خوشبو کے متعلق تفصیلی فقہی ضوابط واضح ہوتے ہیں ساتھ ہی ساتھ یہ حدیث نظافت اور فطری طہارت کو بھی نظرانداز نہیں کرتی، اس لیے تھوڑی مقدار میں قسط اور اظفار جیسی خوشبو اجازت دی گئی ہے — عبادت اور طہارت کے وقت۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الطلاق / حدیث: 3312
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 313، 1279، 5340، 5341، 5342، 5343، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 938، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4305، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3536، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2302، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2087، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2135، وأحمد فى «مسنده» برقم: 21126، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19303، 19632»