سنن سعید بن منصور
كتاب الطلاق— طلاق کی کتاب
بَابُ مَا تَجْتَنِبُهُ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا فِي عِدَّتِهَا باب: وہ امور جن سے شوہر کی وفات کے بعد عدت گزارنے والی عورت کو پرہیز کرنا لازم ہے۔
حدیث نمبر: 3310
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَسْتَأْذِنُهُ فِي الْكُحْلِ؛ لِأَنَّهُ كَانَ مَاتَ زَوْجُهَا، فَلَمْ يَأْذَنْ لَهَا، وَقَالَ: «قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ، وَإِنَّمَا هِيَ الْآنَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا»مظاہر امیر خان
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم کے پاس آئی اور سرمہ لگانے کے متعلق اجازت طلب کی، کیونکہ اس کا شوہر فوت ہو گیا تھا۔ آپ صلی اللہ عليه وسلم نے اسے اجازت نہ دی اور فرمایا: تم میں سے ایک عورت زمانہ جاہلیت میں پورا سال گزرنے پر گوبر پھینک کر عدت ختم کرتی تھی، اور اب عدت کی مدت چار مہینے دس دن ہے۔“
وضاحت:
فائدہ: فقہی احکام (عدتِ وفات): عورت عدت میں: خوشبو نہ لگائے زیور نہ پہنے سرمہ و زینت سے پرہیز کرے نکاح کا پیغام بھی قبول نہ کرے عدت: اگر حاملہ ہو → وضع حمل تک اگر غیر حاملہ ہو → چار ماہ دس دن (القرآن: ﴿وَيَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا﴾)
✅ خلاصہ: یہ حدیث سنداً صحیح ہے اور عدتِ وفات میں عورت کی حالت، محدودیتِ عدت، اور زیب و زینت سے اجتناب کے احکام کو واضح کرتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے: سرمہ جیسے زینتی امور سے منع کیا اور پچھلی قوموں کی سخت عدت کا ذکر کر کے موجودہ شریعت کی آسانی کو ظاہر فرمایا۔
✅ خلاصہ: یہ حدیث سنداً صحیح ہے اور عدتِ وفات میں عورت کی حالت، محدودیتِ عدت، اور زیب و زینت سے اجتناب کے احکام کو واضح کرتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے: سرمہ جیسے زینتی امور سے منع کیا اور پچھلی قوموں کی سخت عدت کا ذکر کر کے موجودہ شریعت کی آسانی کو ظاہر فرمایا۔