سنن سعید بن منصور
كتاب الطلاق— طلاق کی کتاب
بَابُ الرَّجُلِ يَدَّعِي وَلَدًا مِنْ زِنًا باب: اُس مرد کا بیان جو زنا سے پیدا ہونے والے بچے کی نسبت اپنی طرف کرے۔
حدیث نمبر: 3307
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتِ: اخْتَصَمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فِي ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ، فَقَالَ سَعْدٌ: أَوْصَانِي أَخِي عُتْبَةُ: إِذَا قَدِمْتُ مَكَّةَ أَنْ آخُذَ ابْنَ أَمَةِ زَمْعَةَ، فَإِنَّهُ ابْنُهُ، وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: أَخِي، ابْنُ أَمَةِ أَبِي، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي، فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ فَقَالَ: «الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ»مظاہر امیر خان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ نے غلام کے بارے میں جھگڑا کیا، نبی صلی اللہ عليه وسلم نے فرمایا: بچہ بستر والے کا ہے، اے سودہ پردہ کر لو۔“
وضاحت:
فائدہ: سند صحیح اور متفق علیہ ہے — یہ واقعہ صحیح البخاری (حدیث: 2053)، صحیح مسلم، اور دیگر کتب حدیث میں بھی مذکور ہے۔یہ حدیث بالاتفاق صحیح ہے اور نسب کے مسائل میں اصل الاصول کی حیثیت رکھتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے: مشابہت دیکھی، مگر فیصلہ نکاح کی بنیاد پر کیا نسب کے تحفظ کے لیے نص قطعی قائم کر دیا اور پردے کے حکم سے اخلاقی و خاندانی احتیاط کا پہلو بھی سکھایا۔