حدیث نمبر: 3305
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، نا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ، فَقَالَ: إِنَّ لَهُ وَلَدًا مِنْ أُمِّ فُلَانٍ مِنْ زِنًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَيْحَكَ إِنَّهُ لَا عَهْرَ فِي الْإِسْلَامِ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْأَثْلَبُ»
مظاہر امیر خان

سیدنا رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم نے فرمایا: ”زنا میں بچہ نہیں ہوتا، بچہ بستر والے کا ہے اور زناکار کو پتھر ہے۔“

وضاحت:
درایۃً متن حدیث صحیح ہے (بخاری و مسلم سے مؤید)، لہٰذا قابل استدلال ہے۔
فائدہ: اس حدیث کی بنیاد پر فقہی قاعدہ: «الولد للفراش»
بچہ اسی کا ہے جس کے بستر (نکاح) پر پیدا ہوا، چاہے حمل میں شک ہو

«وللعاهر الأثلَب»
زانی کے لیے نسب کا کوئی حق نہیں، صرف شرعی سزا یا ذلت

✅ نتیجہ: یہ روایت فقہی، عدالتی، اور معاشرتی اعتبار سے انتہائی اہم ہے۔
اس سے اسلام کا نکاح کی حرمت، نسب کی پاکیزگی، اور زنا کے رد کا تصور مکمل واضح ہوتا ہے
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الطلاق / حدیث: 3305
درجۂ حدیث محدثین: مرسل
تخریج حدیث «مرسل، «انفرد به المصنف من هذا الطريق»»