حدیث نمبر: 3302
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: قَضَى عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي امْرَأَةٍ عَذْرَاءَ تَزَوَّجَهَا شَيْخٌ كَبِيرٌ فَحَمَلَتْ، فَزَعَمَ الشَّيْخُ أَنَّهُ لَمْ يُجَامِعْهَا، وَسُئِلَتْ هَلِ افْتَضَّكِ؟ قَالَتْ: لَا، فَأَمَرَ النِّسَاءَ أَنْ يَنْظُرْنَ إِلَيْهَا، فَزَعَمْنَ أَنَّهَا عَذْرَاءُ، فَقَالَ: " إِنَّ لِلْمَرْأَةِ سَمَّيْنِ: سَمُّ الْحَيْضِ، وَسَمُّ الْبَوْلِ، فَلَعَلَّ الرَّجُلَ كَانَ يُنْزِلُ فِي قُبُلِهَا فِي سَمِّ الْمَحِيضِ، فَحَمَلَتْ " فَسُئِلَ الرَّجُلُ، فَقَالَ؟ كُنْتُ أُنْزِلُ الْمَاءَ فِي قُبُلِهَا، فَقِيلَ لِلشَّيْخِ: إِنَّهَا لَمْ تَزَلْ بِكْرًا، وَإِنَّمَا الْحَمْلُ لَكَ، وَلَكَ وَلَدُهُ
مظاہر امیر خان

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک عورت کے بارے میں فیصلہ کیا، جو کنواری تھی، اور اس کی شادی ایک بوڑھے شخص سے ہوئی۔ عورت حاملہ ہو گئی۔ بوڑھے شخص نے دعویٰ کیا کہ میں نے اس سے جماع نہیں کیا۔ عورت سے پوچھا گیا کہ کیا تمہاری بکارت زائل ہوئی؟ عورت نے کہا: ”نہیں۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عورتوں کو حکم دیا کہ وہ عورت کا معائنہ کریں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ واقعی کنواری ہے۔ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”عورت کے جسم میں دو راستے ہوتے ہیں: حیض کا راستہ اور پیشاب کا راستہ۔ ممکن ہے کہ مرد نے حیض کے مقام میں (یعنی فرج کے دہانے پر) انزال کیا ہو اور عورت حاملہ ہو گئی ہو۔“ پھر بوڑھے شخص سے پوچھا گیا، تو اس نے کہا: ”میں اس کے فرج پر منی گراتا تھا۔“ چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فیصلہ کیا: ”عورت بدستور کنواری ہے اور حمل تیرے (اسی بوڑھے شخص کے) نطفہ سے ہے، اور یہ بچہ تیرا ہی ہو گا۔“

وضاحت:
وضاحت: إسماعيل بن عياش: ثقہ، لیکن جب "حجازیوں سے روایت" کرے تو اس میں ضعف آتا ہے یہاں سعید بن یوسف حجازی ہے، اس لیے اس کی روایت میں کلام ہے
سعید بن یوسف: ضعیف، محدثین نے اس کی تفصیل میں اختلاف کیا۔ اس بناء پر یہ روایت سنداً ضعیف ہے، مگر معنوی اعتبار سے قوی و مقبول کیونکہ: قضیہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے اور فقہی قاعدے و امکانِ حمل پر مبنی ہے طبی لحاظ سے بھی یہ ممکن الوقوع ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الطلاق / حدیث: 3302
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، و«انفرد به المصنف من هذا الطريق»»