سنن سعید بن منصور
كتاب الطلاق— طلاق کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمَرْأَةِ تُسْلِمُ قَبْلَ زَوْجِهَا باب: اُس عورت کا بیان جو اپنے شوہر سے پہلے مسلمان ہو جائے۔
حدیث نمبر: 3286
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، نا حَجَّاجٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَدَّ زَيْنَبَ ابْنَتَهُ عَلَى أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ بِنِكَاحٍ أَحْدَثَهُ»مظاہر امیر خان
سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ نے اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم نے زینب رضی اللہ عنہا کو ابو العاص بن ربیع کے پاس نئے نکاح کے ساتھ واپس کیا۔“
وضاحت:
وضاحت: اس روایت میں دو باتیں قابلِ غور ہیں: یہ پچھلی دو روایات (2107 و 2108) سے مخالفت رکھتی ہے: وہاں نکاح پہلا ہی باقی رکھا گیا یہاں نیا نکاح کرایا گیا بتایا گیا۔ یہ روایت سنداً ضعیف ہے (بسبب حجاج بن أرطاة) اور پہلے سے صحیح سند کے ساتھ ثابت روایات کے مخالف بھی ہے اس لیے اسے راجح نہیں مانا جائے گا
راجح یہی ہے کہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو ابو العاص کے اسلام لانے کے بعد بغیر نئے نکاح کے واپس کیا — پہلے نکاح کو ہی بحال رکھا۔
راجح یہی ہے کہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو ابو العاص کے اسلام لانے کے بعد بغیر نئے نکاح کے واپس کیا — پہلے نکاح کو ہی بحال رکھا۔