سنن سعید بن منصور
كتاب الطلاق— طلاق کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمَرْأَةِ تُسْلِمُ قَبْلَ زَوْجِهَا باب: اُس عورت کا بیان جو اپنے شوہر سے پہلے مسلمان ہو جائے۔
حدیث نمبر: 3285
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ تَحْتَ أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ فَأَسْلَمَتْ قَبْلَهُ وَأُسِرَ، فَجِيءَ بِهِ أَسِيرًا فِي قَيْدٍ فَأَسْلَمَ «فَكَانَا عَلَى نِكَاحِهِمَا»مظاہر امیر خان
سیدنا عمرو بن دینار رحمہ اللہ نے کہا: ”زینب رضی اللہ عنہا نے اسلام قبول کیا اور ابو العاص قید ہو کر آیا اور اسلام لایا تو دونوں کا نکاح برقرار رہا۔“
وضاحت:
فائدہ: حدیث 2108 دراصل حدیث 2107 کی مؤید اور مزید واضح روایت ہے، جس میں سیدہ زینب بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے شوہر ابو العاص بن الربیع کے اسلام قبول کرنے کے بعد نکاح کے برقرار رہنے کو بطور تاریخی و سیرتی واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ یہ روایت اسلامی فقہ میں اختلاف دین کی حالت میں نکاح کے احکام کا نہایت اہم استدلالی ذریعہ ہے۔
یہ روایت سنداً صحیح ہے، اور سیرتِ نبوی ﷺ پر مبنی واضح عملی مثال ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ: عورت اگر پہلے اسلام لائے اور شوہر بعد میں تو پہلا نکاح برقرار رہ سکتا ہے نیا نکاح یا مہر کی تجدید لازم نہیں، بشرطیکہ عورت دوسرے نکاح میں داخل نہ ہو۔
یہ روایت سنداً صحیح ہے، اور سیرتِ نبوی ﷺ پر مبنی واضح عملی مثال ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ: عورت اگر پہلے اسلام لائے اور شوہر بعد میں تو پہلا نکاح برقرار رہ سکتا ہے نیا نکاح یا مہر کی تجدید لازم نہیں، بشرطیکہ عورت دوسرے نکاح میں داخل نہ ہو۔