سنن سعید بن منصور
كتاب الطلاق— طلاق کی کتاب
بَابُ مَنْ قَالَ: إِنَّ الْأَمَةَ تَبْرُزُ وَتُصَلِّي بِغَيْرِ قِنَاعٍ باب: جس کا قول ہے کہ باندی بغیر دوپٹے کے باہر نکلتی ہے اور نماز پڑھتی ہے۔
حدیث نمبر: 3274
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا مَنْصُورٌ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: الْأَمَةُ الَّتِي قَدْ حَاضَتْ تَخْرُجُ فِي إِزَارٍ؟ قَالَ: «نَعَمْ» قُلْتُ: كَيْفَ ذَلِكَ؟ قَالَ: «كَانَ بِالنَّاسِ إِذْ ذَاكَ حَاجَةٌ» فَقُلْتُ: قَدْ وَسَّعَ اللَّهُ عَلَيْنَا، فَقَالَ: «دَعْنِي مِنْكَ»مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ کیا حیض والی باندی ازار پہن کر نکل سکتی ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”ہاں۔“ اور مزید کہا: ”اس وقت لوگوں کو ضرورت تھی، اب اللہ نے وسعت دی ہے۔“
وضاحت:
فائدہ: (1) امَہ (باندی) اور خروج فی الإزار: حائضہ امَہ کو کپڑے میں لپیٹ کر باہر جانے کی اجازت یعنی وہ عبادت (نماز/طواف) تو نہیں کر سکتی، لیکن حج یا مناسک میں موجودگی یا خدمت وغیرہ کے لیے نکل سکتی ہے (2) "کان بالناس إذ ذاك حاجة": یعنی پہلے لوگ غربت، قلتِ لباس اور خدمت کی ضرورت کے باعث حائضہ اماء کو بھی باہر نکالتے تھے اس میں سماجی ضرورت اور عملی رعایت کا پہلو ظاہر ہوتا ہے (3) مجاہد کا اعتراض اور ابن عمر کا ردّ عمل: مجاہد نے کہا: "اب تو ہمیں وسعت حاصل ہے" → یعنی وہ اس عمل کو ماضی تک محدود سمجھتے تھے ابن عمر نے فرمایا: "دعني منك" → مطلب: یہ سنت و عمل سابق ہے، تمہاری عقلی قیاس آرائی سے اس کا بدل نہ نکالو