حدیث نمبر: 3271
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيِّ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ «إِنَّ الْأَمَةَ أَلْقَتْ فَرْوَةَ رَأْسِهَا وَرَاءَ الْجِدَارِ»
مظاہر امیر خان

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”باندی نے اپنی چادر دیوار کے پیچھے پھینک دی۔“

وضاحت:
وضاحت: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "بیشک لونڈی نے اپنے سر کی کھال (یعنی حیا، عزت یا پردہ) دیوار کے پیچھے پھینک دی ہے"

? تعبیر کا مقصد: → وہ اپنے آپ کو فحاشی و بے حیائی میں ڈال چکی ہے
→ عصمت اور عزت کا لحاظ نہیں رکھا

? تحکیم و فقہی نکات: یہ ایک عمومی اور تنبیہی قول ہے، نہ کہ باقاعدہ فتویٰ یا قضاء
→ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ عبرت کے انداز میں کہہ رہے ہیں کہ بعض امائیں فاحشہ ہو جاتی ہیں

فقہی پس منظر: لونڈی پر حد نصف ہے (جیسا کہ قرآن میں ہے)، لیکن اگر اس کی حالت مستقل فسق و فجور پر ہو، تو تعزیر شدید ہو سکتی ہے

یہ اثر حدیث 2093 کا تکراری ہم معنی بیان ہے، یہ اثر سنداً ضعیف ہے (بسبب حجاج بن أرطاة)، مگر معنوی طور پر معروف اور سابقہ صحیح اثر (2093) کا تقویتی شاہد ہے، اور اس میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی زبان سے تنبیہ، عبرت اور سماجی تبصرہ ظاہر ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الطلاق / حدیث: 3271
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2093، 2094، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 5052، 13612، 13614، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 6292، 6293»
حجاج بن أرطاة ضعيف، هُشَيم کی تدلیس اور عن سے روایت کا پہلو بھی موجود ہے