حدیث نمبر: 3261
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا حَجَّاجٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يَتَسَرَّى الْعَبْدُ إِذَا أَذِنَ لَهُ مَوْلَاهُ»
مظاہر امیر خان

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما غلام کو مالک کی اجازت سے باندی سے تعلق قائم کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔

وضاحت:
حجاج بن أرطاة:، صدوق، مدلس، کثیر الخطأ
مسئلہ: کیا غلام تسری کر سکتا ہے؟
اصل اصول: تسری (یعنی باندی سے تعلق) مالک کے لیے جائز ہے، غلام چونکہ خود مالک نہیں ہوتا، اس لیے: باندی اس کے لیے "محل وطی" نہیں، الا یہ کہ مالک اجازت دے دے
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ قول اجتہادی فتویٰ ہے کہ: "اگر آقا اجازت دے دے تو غلام بھی تسری کر سکتا ہے"
فقہاء احناف و مالکیہ کے ہاں یہ مسئلہ مختلف فیہ ہے: فقہی مسلک ◄ موقف
احناف: غلام تسری نہیں کر سکتا، کیونکہ وہ مالک نہیں ہے
بعض مالکیہ و اہل الظاہر اجازت کے ساتھ جائز سمجھتے ہیں، جیسا کہ ابن عمر کا قول
✅ نتیجہ: یہ اثر سنداً ضعیف ہے (بسبب حجاج بن أرطاة)، لیکن مضمون کے لحاظ سے ایک معتبر فقہی قول کو ظاہر کرتا ہے
جو ابن عمر رضی اللہ عنہما جیسے فقیہ صحابی کا فتویٰ ہے
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الطلاق / حدیث: 3261
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2084، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 13965، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 12836، 12845، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 16535»